نئی دہلی: آرمی چیف جنرل منوج پانڈے نے جمعرات کو کہا کہ چین کے ساتھ لائن آف ایکچول کنٹرول پر صورتحال چیلنجنگ اور غیر یقینی سے بھری ہوئی ہے لیکن فوج کسی بھی ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ 75ویں آرمی ڈے سے قبل جمعرات کو یہاں سالانہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل پانڈے نے کہا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے ساتھ حالات چیلنجنگ اور غیر یقینی صورتحال سے بھرے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی صورتحال مستحکم اور کنٹرول میں ہے اور فوج پوری قوت کے ساتھ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرقی لداخ میں فوجی تعطل کو حل کرنے کے لیے مسلسل بات چیت کی جا رہی ہے اور ساتھ ہی فوج کی تیاریوں کو بھی مضبوط کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کی جانب سے کچھ علاقوں میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے لیکن ہندستان بھی اسی کے مطابق تمام اقدامات اٹھا کر ہر طرح کی تیاریاں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے ساتھ یکطرفہ طور پر جمود کو تبدیل کرنے کی چین کی کوششوں کو مسلسل ناکام بنایا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کوئی بھی جنگ صرف ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کے زور پر نہیں جیتی جاتی بلکہ فوجیوں کی تربیت اور حوصلے کی بھی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں جنرل پانڈے نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں شمالی سرحد کے ساتھ اسٹریٹجک اہمیت کے حامل علاقوں میں 2100 کلومیٹر سڑکیں بنائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ 7450 میٹر طویل پل بنائے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ قومی شاہراہوں اور سرنگوں کا جال بھی بچھایا جا رہا ہے۔
آرمی چیف نے کہا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے ساتھ اپنے اپنے علاقوں میں فوجیوں کے لیے جدید ترین پوسٹیں اور عارضی رہائش گاہیں قائم کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ اسلحہ اور گولہ بارود رکھنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی سہولیات بھی پیدا کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج میں تیزی سے جدید کاری کی جا رہی ہے اور جلد ہی فوج کے پاس حالات کے مطابق 40 فیصد جدید ترین اور 35 فیصد متعلقہ ہتھیار ہوں گے۔
ڈوکلام سے ملحقہ علاقوں میں چین کی سرگرمیوں کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ ہندوستان چین کی سرگرمیوں اور اقدامات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں سرحد پار سے دراندازی میں کمی آئی ہے، لیکن کچھ خفیہ تنظیم سرگرم ہو رہی ہیں، ان کے خلاف بھی کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں ترقیاتی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے لوگ انتظامیہ کا ساتھ دے رہے ہیں۔