امپھال: منی پور کی مظلوم خواتین کو انصاف دلانے کے لیے چوراچند پور کی سڑکوں پر جمعرات کے روز ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں شہریوں نے اپنا غصہ ظاہر کیا اور اور مجرموں کے خلاف سخت ترین سزا کا مطالبہ کیا۔ خراب موسم کے باوجود لوگ چورا چند پور میں سڑکوں پر احتجاج کرنے کے لیے جمع ہوئے۔ احتجاج کرنے والوں نے ریاستی حکومت سے اپنی متعصبانہ پالیسی سے گریز کرتے ہوئے عصمت دری کرنے والوں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد منی پور پولیس نے جمعرات کو ایک ملزم کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ 4 مئی کا ہے۔ لیکن 19 جولائی کو سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے کاروائی کی اور ایک ملزم کو گرفتار بھی کیا۔ ویڈیو میں ریاست میں جاری نسلی جھڑپوں کے درمیان دو قبائلی خواتین کو برہنہ حالت میں پریڈ کرواتے دکھایا گیا ہے اور ہجوم کے ذریعہ جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا گیا، جس کی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی۔
منی پور کے واقعے نے سپریم کورٹ کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی جس ویڈیو نے چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ کو ریاست میں خواتین کے خلاف تشدد کی تصویر کشی کرنے والی وائرل ویڈیوز کا ازخود نوٹس لینے پر مجبور کیا۔ چیف جسٹس نے اس گھٹیا ویڈیو پر تنقید کی جس میں دونوں خواتین کو برہنہ حالت میں جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا، اسے آئینی جمہوریت میں انتہائی پریشان کن اور ناقابل قبول قرار دیا۔ عدالت نے حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ اگر حکومت تیزی سے کام کرنے میں ناکام رہی تو عدالت مداخلت کرے گی۔