ممبئی:مہاراشٹر اسمبلی میں لو جہاد کا معاملہ اٹھاتے ہوئے ریاستی وزیر منگل پربھات لودھا نے کہا کہ لو جہاد کے کیسز اکثر منظر عام پر نہیں آپاتے یہی وجہ ہے کہ مہاراشٹر میں لو جہاد کے 1 لاکھ سے زیادہ کیسز درج ہو چکے ہیں۔ ریاست میں 50 ہزار سے زیادہ لوگ اس کے خلاف احتجاج کر چکے ہیں۔ لودھا کے مطابق مہاراشٹر میں 1 لاکھ سے زائد لو جہاد کے کیسز ہیں۔ لودھا نے کہا کہ ہماری حکومت خواتین کی بہتری اور فلاح و بہبود کے لیے کام کرتی ہے۔ پی ایم مودی نے تین طلاق جیسے قانون بنا کر خواتین کو ان کے حقوق دلائے ہیں۔ لو جہاد کے کیس اکثر منظر عام پر نہیں آپاتے۔
وہیں دوسری طرف اس بات کو لیکر سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے کہا کہ یہ سراسر جھوٹ ہے۔ اس طرح سے کسی بھی معاملے لو لیکر لو جہاد کا نام دینا یہ صحیح نہیں ہے۔ مہارشٹر ہی نہیں بھارت کے آئین ہر مذہب کو پوری آزادی ہے کہ وہ اپنے مرضی کے مطابق شادی کرے اور اپنی زندگی گزارے۔ صرف ہندو لڑکی مسلم سے نہیں بلکہ مسلم لڑکیاں بھی ہندو مذہب اختیار کر کے شادیاں کر رہی ہیں۔ اس بارے میں کوئی کیوں نہیں بولتا۔ وہیں رکن اسمبلی رئیس شیخ نے کہا کہ لودھا کو سیاست کرنی ہے۔ اسلئے اس طرح کی بیان بازی کرتے ہیں، ان کے بیان میں کوئی سچائی نہیں ہے۔