اردو

urdu

ETV Bharat / bharat

نمو ٹی وی میں کس کا پیسہ لگا ہے؟ - Indian Media

لوک سبھا انتخابات سے قبل نمو ٹی وی کا مسئلہ زیر بحث ہے۔ اس چینل پر وزیر اعظم نریندر مودی کے خطاب، بی جے پی کے منصوبے اور پارٹی سے متعلق مواد دکھایا جاتا ہے۔

نمو ٹی وی میں کس کا پیسہ لگا ہے؟

By

Published : Apr 5, 2019, 8:04 PM IST

نمو ٹی وی چینل سے متعلق کئی سوال اٹھ رہے ہیں اور سب سے بڑا سوال ہے کہ بغیر لائسنس کے یہ چینل کیسے چل رہا ہے۔
وہحزب اختلاف اسے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دے رہی ہے۔ حزب اختلاف کی شکایت کے بعد الیکشن کمیشن نے وزارت اطلاعات و نشریات سے اس چینل کی تفصیلات طلب کی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق نمو ٹی وی کے پاس نہ تو براڈکاسٹ لائسنس ہے اور نہ ہی اس کے پاس سکیورٹی لائسنس ہے۔

اطلاعات کے مطابق نمو ٹی کی نشریات سب سے پہلے اکتوپر 2012 میں گجرات کے اسمبلی انتخاب سے قبل ہوئی تھی۔

بی جے پی نے آفیشیل طور پر نہیں بتایا ہے کہ اب اس چینل کو کون چلا رہا ہے، لیکن پارٹی سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں سے نمو ٹی وی دیکھنے کی اپیل کر رہی ہے۔

کانگریس پارٹی اور ‏عام آدمی پارٹی نے اس چینل کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن سے اس کی شکایت کی تھی۔ الیکشن کمیشن نےاس ضمن میں وزارت معلومات و نشریات سے اس چینل کی تفصیلات طلب کی ہے۔

بھارت میں ٹی وی چینل کے نشریات کے قانون کے مطابق ملک میں ٹی وی چینل کی نشریات کیبل ٹی وی نیٹورکس (ریگولیشن) ایکٹ، 1995 کے تحت ہوتا ہے۔ ٹی وی چینل شروع کرنے کے لیے وزارت اطلاعات و نشریات کو درخواست دینا ہوتا ہے۔

وزارت اسے سکیورٹی کلیرنس کے لیے وزارت خارجہ کو بھیجتا ہے۔ ساتھ ہی فرکوینس مختص کے لیے وزارت ڈبلو پی سی اور اے او سی سی محکمہ کو بیجا جاتا ہے اور بین الاقوامی سرمایاکاری کے لیے ڈی آئی پی پی اور وزارت خزانہ کو بھیجا جاتا ہے۔ انٹرنیٹ پر نشر کے لیے کوئی قانون نہیں ہے۔ آئی ٹی قانون 2011 کے تحت کچھ اسٹینڈرڈ ضرور بنائے گئے ہیں۔

نیوز چینلوں میں 49 فیصد بیرونی ملک کی سرمایا کاری کی اجازت ہے جبکہ ڈیجیٹل کیبل ٹی وی اور ڈی ٹی ایچ سروس میں 100 فیصد بیرونی پونجی لاگائی جا سکتی ہے۔ نیوز چینلوں میں 49 فیصد غیر ملکی سرمایاکاری کے لیے بھی منظوری لینے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔

یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ انتخابی موسم میں سب سے بڑی خبریں ہوتی ہیں۔ رہنماؤں کے بیان، خطاب، وعدے، ارادے، نمو ٹی وی پر دن رات یہی دکھایا جاتا ہے۔ پھر بھی یہ نیوز چینل نہیں۔ کیا ایسا اس لیے ہے تاکہ اسے قانون کے دائرے سے باہر رکھا جائے اور اس کا مالکانہ حق کس کے پاس ہے یہ بھی نہ بتانا پڑے؟

ABOUT THE AUTHOR

...view details