یاد رہے کہ پیر کے روز ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج پٹھان کوٹ ڈاکٹر تجویندر سنگھ نے کٹھوعہ عصمت دری و قتل واقعہ کے منصوبہ ساز و سابق سرکاری افسر سانجی رام، پرویش کمار اور ایس پی او دیپک کھجوریہ کو تاحیات قید کی سزا جبکہ دیگر تین بشمول ایس پی او سریندر کمار، سب انسپکٹر آنند دتا اور ہیڈ کانسٹیبل تلک راج کو پانچ پانچ سال قید کی سزا سنائی۔
جج موصوف نے سانجی رام کے بیٹے وشال جنگوترا کو ٹھوس شواہد کی عدم موجودگی کی بناء پر بری کردیا۔
مبین فاروقی نے کہا کہ مجرمین کی سزاؤں کو مزید سخت کرانے کے لئے وہ متاثرہ بچی کے والد کی اپیل لیکر پنجاب - ہریانہ ہائی کورٹ کی طرف رجوع کریں گے۔
یہ اپیل سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق دائر کی جائے گی۔
انہوں نے کہا: 'ہم کیس کے تین کلیدی مجرمین سانجی رام، پرویش کمار اور ایس پی او دیپک کھجوریہ کی تاحیات عمر قید کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرانے، تین دیگر ملزموں ایس پی او سریندر کمار، سب انسپکٹر آنند دتا اور ہیڈ کانسٹیبل تلک راج کی پانچ پانچ برسوں کی سزا میں مزید اضافہ کرانے اور بری شدہ ملزم وشال جنگوترا کو بری قرار دینے کے خلاف پنجاب -
ہریانہ ہائی کورٹ کا دورازہ کھٹکھٹائیں گے اور استغاثہ بھی ان معاملات پر اعلیٰ عدالتوں کی طرف رجوع کرے گا'۔