پاکستان سُپر لیگ کے دوران یہ بات سامنے آ چکی تھی کہ پاکستان کرکٹ بورڈ عالمی کپ سے قبل کچھ کھلاڑیوں کو آرام دینا چاہتا ہے جن میں کپتان سرفراز احمد کا نام بھی شامل تھا اور گذشتہ روز چیف سلیکٹر انضمام الحق نے اس بارے میں اعلان بھی کر دیا۔
سرفراز احمد سمیت چھ کھلاڑیوں کو آرام دینے کے فیصلے کے بارے میں انضمام الحق اگرچہ یہ کہہ چکے ہیں کہ اس کا مقصد ان کھلاڑیوں کو عالمی کپ کے لیے مکمل تازہ دم رکھنا ہے لیکن پاکستانی کرکٹ کی روایتی سیاست کو ذہن میں رکھتے ہوئے کچھ حلقے یہ خیال ظاہر کر رہے ہیں کہ کہیں یہ ماضی کی طرح کا کپتانی کا میوزیکل چیئر گیم تو نہیں؟ کہیں یہ آرام کے نام پر زبردستی رخصت پر بھیجنے کا معاملہ تو نہیں؟
کرکٹ کے حلقوں میں سب سے زیادہ حیرانی اس بات پر ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے سرفراز احمد کو آرام دے کر کپتانی ایک بار پھر شعیب ملک کے سپرد کردی ہے جن کا اپنا بین الاقوامی کریئر زیادہ آگے جاتا ہوا نظر نہیں آتا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے کسی ایسے کرکٹر کو یہ ذمہ داری سونپنے کی زحمت نہیں کی جو سرفراز احمد کے ٹیم میں واپس آنے کے بعد نائب کپتان کے طور پر اپنی ذمہ داری نبھا سکے۔
واضح رہے کہ شعیب ملک کو جنوبی افریقہ میں سرفراز احمد پر عائد پابندی کے بعد بھی کپتانی سونپی گئی تھی لیکن ان کی کپتانی میں پاکستان ٹی۔20 سیریز ہار گیا تھا۔ میدان میں ان کے بعض فیصلے اور ان کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھے تھے۔