اردو

urdu

ETV Bharat / bharat

'ہندو۔ مسلم کے نام پر کانگریس الیکشن نہیں لڑتی' - ہندو اور مسلمان

راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور سینئر کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ 'ان کی جماعت ہندو اور مسلمان کے نام پر الیکشن نہیں لڑتی'۔

کانگریس ہندو اور مسلمان کے نام پر الیکشن نہیں لڑتی ہے: غلام نبی آزاد

By

Published : Apr 3, 2019, 7:38 AM IST

انہوں نے کہا کہ ’ہندو اور مسلمان کو ایک دوسرے لڑاکر الیکشن لڑنا بی جے پی کا کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں گذشتہ چار سال سے وزیر اعظم مودی کی سرپرستی میں حکومت کے نام پر ڈکٹیٹرشپ ہے‘۔

غلام نبی آزاد نے منگل کے روز ضلع راجوری کے کوٹرنکا میں کانگریس امیدوار رمن بھلا کے حق میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا 'ہم کو الیکشن ہندو اور مسلمان کے نام پر نہیں لڑنا ہے۔ ہندو اور مسلمان کو لڑانا بی جے پی کا کام ہے۔ کانگریس نے کبھی ہندو مسلم کے نام پر سیاست نہیں کی ہے۔ ہمارے لئے ہندو بھی اتنا ضروری جتنا مسلمان۔ ہندو اور مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ ہمارے لئے ہندو بھی ہمارا خون۔ یہ ملک تبھی تک ہندوستان ہے جب تک یہاں ہندو اور مسلمان پیار و محبت سے رہیں گے'۔

انہوں نے کہا 'ہندو اور مسلمان کے نام پر الیکشن لڑنے والے زہر کے بیچ بوتے ہیں۔ ہم سب کو اس ملک میں ملکر رہنا ہے۔ اس کو تقسیم سے روکنا ہے'۔

آزاد نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی تعریف کرتے ہوئے کہا 'اٹل بہاری واجپئی بھی وزیر اعظم تھے۔ لیکن ان میں سوجھ بوجھ تھی۔ وہ ایک اچھے انسان تھے۔ ہم ان کی بہت قدر کرتے تھے۔ ہندو بھی اور مسلمان بھی قدر کرتے تھے۔ سکھ بھی واجپئی صاحب کی عزت کرتے تھے۔ کیونکہ وہ بغیر کسی امتیاز کام کرتے تھے۔ وہ دوسرے طبقوں اور فرقوں کو عزت دیتے تھے، اچھا مقام دیتے تھے اور کوئی امتیازی سلوک نہیں کرتے تھے۔ واجپئی صاحب مودی سے بہت بڑے لیڈر تھے۔ مودی صاحب تو ٹیلی ویژن لیڈر ہیں۔ ٹیلی ویژن بند کرو تو پتہ نہیں چلے گا کہ مودی بھی کوئی ہے'۔

انہوں نے کہا 'واجپئی صاحب کے وقت میں سماج میں تنائو نہیں تھا۔ ہندو اور مسلم کے بیچ میں تنائو نہیں تھا۔ لیکن آج بی جے پی جس ریاست میں بھی ہارتی ہے تو مودی صاحب ایک دم ہندو مسلمان کرتے ہیں'۔

انہوں نے کہا 'آپ نے کل ہی دیکھا، راہل جی کیرلہ میں الیکشن لڑنے گئے۔ لوگوں نے وہاں سے الیکشن لڑنے پر مجبور کیا۔ اتفاق سے اس پارلیمانی حلقہ میں مسلمانوں کی آبادی پچاس فیصد ہے۔ گذشتہ دو دن سے مودی جی اسی موضوع پر باشن دے رہے ہیں۔ مودی جی کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی مسلم حلقہ انتخاب سے الیکشن لڑرہے ہیں۔ کیا یہ کہنا ایک وزیر اعظم کو زیب دیتا ہے۔ کیا یہ کہنا ایک وزیر اعظم کو زیب دیتا ہے کہ کون مسلم حلقہ اور کون غیر مسلم حلقہ انتخاب سے الیکشن لڑ رہا ہے'۔

غلام نبی آزاد نے کہا کہ اگر وزیر اعظم مودی نے اچھے کام کئے ہوتے تو وہ کشمیر سے بھی الیکشن لڑسکتے تھے۔

ان کا کہنا تھا 'کیا آپ کو کسی نے کہیں سے الیکشن لڑنے سے روکا ہے۔ آپ اگر تنائو نہیں کرتے تو کشمیر سے بھی الیکشن لڑ سکتے تھے۔ میرے کہنے کا مقصد ہے کہ وہ ہر الیکشن کو ہندو مسلم کا نام دیتے ہیں'۔

ABOUT THE AUTHOR

...view details