نئی دہلی: شعبہ عربی کے ریسرچ اسکالر زبیر عالم اصلاحی کو ان کے تحقیقی مقالہ 'تحقیق المخطوطات العربیۃ فی الھند، دراسۃ نقدیۃ یعنی 'بھارت میں تحقیق شدہ عربی مخطوطات کا تنقیدی جائزہ‘کے لیے بھارت کی سب سے بڑی 'یونیورسٹی آف دہلی' کی جانب سے پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی گئی ہے۔Awarding PhD degree to Zubair Alam Islahi
زبیر عالم نے اپنا تحقیقی مقالہ شعبہ عربی دہلی یونیورسٹی دہلی کے پروفیسر ڈاکٹر سید حسین اختر کی نگرانی میں مکمل کیا ہے۔ان کے پی ایچ ڈی کے مقالے کا مناقشہ شعبہ عربی کے سیمینار روم میں آن لائن عمل میں آیا۔ اس تحقیقی مقالہ کے ممتحن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ عربی کے سابق صدر پروفیسر ڈاکٹر سمیع اختر فلاحی تھے۔اوپن وایوا میں موضوع سے متعلق ممتحن اور شرکاء کی جانب سے گونا گو ں سوالات کے گئے۔جس کا زبیر احمد اصلاحی نے بڑی خوش اسلوبی اور اطمینان سے تشفی بخش جواب دیا۔ ممتحن نے ان کے کام سے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ستائش کی۔بعد ازاں شعبہ عربی کے اساتذہ اور اسکالر نے ایک مشکل اور وسیع موضوع پر کام کر نے کے لئے زبیر عالم اصلاحی اور ان کے نگران پروفیسر سید حسین اختر کو مبارکباد دی۔اس موقع پر صدر شعبہ عربی پروفیسر نعیم الحسن اثری،پروفیسر سید حسین اختر،ڈاکٹر مجیب اختر،ڈاکٹر محمد اکرم،ڈاکٹر اصغر محمود سمیت شعبہ عربی کے دیگر اساتذہ اور اسکالر موجود تھے۔
اس موقع پر زبیر عالم نے اپنے والدین، نگراں،اساتذہ اور دوستوں کا شکریہ ادا کیا، جن کی شفقت، حوصلہ افزائی نے مقالہ کے بعض دشوار گزار مراحل میں ان کی مدد کی اور مقالہ کو خوش اسلوبی سے پایہ تکمیل تک پہنچا۔زبیر عالم اصلاحی کا تعلق ضلع ارریہ کے ایک سرحدی گاؤں 'بابوان'سے ہے۔یہ بات کسی سے مخفی نہیں ہے کہ سیمانچل کا علاقہ تعلیم وتعلم اور جملہ وسائل تعمیر و ترقی میں ہنوز پسماندہ شمار کیا جاتا ہے۔اس لحاظ سے زبیر عالم کو ’ڈاکٹر آف فلوسفی‘ملناگاوں اور علاقے کیلئے باعث صد افتخار ہے۔
زبیر عالم نے کہاکہ بھارت میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ مخطوطات ہیں جن میں 40 فیصد مخطوطات عربی میں ہیں جب کہ ساٹھ فیصد دوسری زبانوں میں کے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بھارت میں مخطوطات کے تحفظ کا کوئی باضابطہ نظم نہیں ہے۔خاص طور پر خانقاہوں میں موجودمخطوطات تباہی کے دہانے پر ہیں، بہت سے مخطوطات دیمک کی نذر ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس طرح کے مقامات پر موجود مخطوطات کو تحفظ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ تحقیق شدہ مخطوطات کو منتخب کیا، معیار کیا ہے، کیا ضابطے تھے، ان ضابطوں پر کتنا عمل ہوا، اس کا جائزہ لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ علی گڑھ اور دائرہ المعارف میں سب سے زیادہ مخطوطات ہیں۔ اس موقع پر سیمانچل سرکل آف دہلی کے صدر عابد انور اور جنرل سکریٹری مہربان علی فلاحی کے ساتھ سیمانچل سرکل آف دہلی کے ممبران نے سرکل کے معزز رکن زبیر عالم اصلاحی اور ان کے اہل وعیال کو مبارکباد پیش کیا ہے۔
Awarding PhD Degree زبیر عالم اصلاحی کو پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض، بھارت میں ڈیڑھ لاکھ مخطوطات ہیں، زبیر عالم - شعبہ عربی کے ریسرچ اسکالر زبیر عالم اصلاحی
شعبہ عربی کے ریسرچ اسکالر زبیر عالم اصلاحی کو ان کے تحقیقی مقالہ 'تحقیق المخطوطات العربیۃ فی الھند، دراسۃ نقدیۃ یعنی 'بھارت میں تحقیق شدہ عربی مخطوطات کا تنقیدی جائزہ‘کے لیے بھارت کی سب سے بڑی 'یونیورسٹی آف دہلی' کی جانب سے پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی گئی ہے۔ ان کے پی ایچ ڈی کے مقالے کا مناقشہ شعبہ عربی کے سیمینار روم میں آن لائن عمل میں آیا۔ اس تحقیقی مقالہ کے ممتحن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ عربی کے سابق صدر پروفیسر ڈاکٹر سمیع اختر فلاحی تھے۔ Awarding PhD degree to Zubair Alam Islahi

Etv Bharat
TAGGED:
Zubair Alam Islahi