نئی دہلی: کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے کہا ہے کہ انہوں نے پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھی کو منانے کی پوری کوشش کی ہے لیکن وہ الیکشن لڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں، اس لیے اب یہ طے ہے کہ انہیں صدر کے عہدے کے لیے الیکشن لڑنا پڑے گا۔ گہلوت نے ٹویٹ کیاکہ 'یہ طے ہے کہ مجھے صدر کے عہدے کے لیے مقابلہ کرنا ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں، یہ پارٹی کی اندرونی جمہوریت کا معاملہ ہے، ہم سب کو مل کر ایک نئی شروعات کرنی چاہیے اور میں امید کرتا ہوں کہ ملک کے حالات کے لیے اپوزیشن کا مضبوط ہونا بہت ضروری ہے، ہم اس کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔' Congress Presidential Election
انہوں نے کہا کہ وہ راہل گاندھی سے ملے تھے اور انہیں راضی کرنے کی پوری کوشش کی تھی۔ انہوں نے کہاکہ 'میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ ایک بار مجھے راہل جی سے درخواست کرنی تھی جب تمام ریاستی کانگریس کمیٹیاں ایک قرارداد پاس کر رہی ہیں کہ آپ کو صدر بننا چاہیے تو آپ اسے قبول کیجئے۔ میں نے کافی بات چیت کرنے کی کوشش کی لیکن وہ کہتے ہیں کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس مرتبہ گاندھی خاندان کا کوئی فرد امیدوار نہیں ہوگا۔'
انہوں نے راہل گاندھی سے کانگریس صدر بننے کی درخواست کی ہے لیکن انہوں نے صدر کے عہدے کے لیے انتخاب نہ لڑنے کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ 'میں جانتا ہوں کہ سب چاہتے ہیں میں ان کے الفاظ کا احترام کرتا ہوں، ریاستی کانگریس کمیٹیوں نے قرارداد پاس کی، ٹھیک ہے، اگر کارکنان چاہتے ہیں، میرے دل میں ان کے لیے بہت عزت ہے، لیکن ہم نے فیصلہ کیا کہ اس مرتبہ غیر گاندھی خاندان سے کوئی شخص صدر بنے۔