نئی دہلی: مرکزی حکومت ایک 'یونیورسل پنشن اسکیم' پر کام کر رہی ہے جس سے تمام ہندوستانی شہریوں کو فائدہ پہنچے گا۔ اس میں غیر منظم شعبے میں کام کرنے والے لوگ بھی شامل ہیں۔ این ڈی ٹی وی نے مرکزی وزارت محنت کے ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔
یہ لاکھوں نہیں تو کروڑوں ہندوستانیوں جیسے کہ تعمیراتی کارکنوں، گھریلو ملازمین اور گگ ورکرس کے لیے ایک بہت بڑی تبدیلی ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فی الحال حکومت کی کسی بڑی بچت اسکیم کے تحت نہیں آتے ہیں۔
نئی تجویز کے تحت رقم جمع کرنا رضاکارانہ ہوگا اور حکومت اپنی طرف سے اس میں حصہ نہیں دے گی۔ اس میں کچھ موجودہ اسکیموں کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے اور شہریوں کے لیے حکومت کے زیر انتظام بچت کے ڈھانچے کو ہموار کیا جا سکتا ہے۔
نئی اسکیم سیلف ایمپلائڈ اور تنخواہ دار ملازمین کے لیے بھی دستیاب ہوگی۔ اسے اب نئی پنشن اسکیم کہا جا رہا ہے اور ذرائع نے زور دیا کہ یہ اسی نام سے چل رہی موجودہ اسکیم کو شامل کر سکتی ہے۔ تجویز کی دستاویز مکمل ہونے کے بعد اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت شروع کی جائے گی۔
موجودہ نیا پنشن سسٹم (این پی ایس) 18-70 سال کی عمر کے تمام ہندوستانی شہریوں کے لیے دستیاب ہے، بشمول بیرون ملک رہنے والے۔ یہاں تک کہ کارپوریٹ بھی اس اسکیم کا انتخاب کرسکتے ہیں اور اپنے ملازمین کو فوائد پہنچا سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ حکومت پردھان منتری شرم یوگی مان دھن یوجنا بھی چلاتی ہے، جو غیر منظم شعبے میں مزدوروں کے لیے بڑھاپے کی سکیورٹی کو یقینی بناتی ہے۔ اس اسکیم کے لیے درخواست دہندہ کو این پی ایس، ایمپلائز اسٹیٹ انشورنس کارپوریشن اسکیموں کے تحت کؤر نہیں ہونا چاہیے اور وہ انکم ٹیکس دہندہ بھی نہیں ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: