نئی دہلی: ہریانہ-پنجاب کے شمبھو سرحد پر کسانوں کے جاری احتجاج کے درمیان سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی دائر کی گئی ہے۔ اس درخواست میں پنجاب میں قومی اور ریاستی شاہراہوں پر رکاوٹیں فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ریاست کے مختلف مقامات پر مبینہ کسانوں اور کسان یونینوں کے ذریعہ غیر قانونی طور پر قبضہ کیا گیا ہے اور راستوں کو بلاک کر دیا گیا ہے۔ اس پی آئی ایل میں پنجاب، ہریانہ اور یونین آف انڈیا کو کسانوں کے احتجاج پر سے پابندی ہٹانے اور یہ بھی یقینی بنانے کے لیے ہدایات مانگی گئی ہیں کہ تمام قومی شاہراہوں اور ریلوے ٹریک کو مشتعل کسانوں کے ذریعے بلاک نہ کیا جائے۔
ساتھ ہی ریاستوں اور مرکزی حکومت کو عام لوگوں کے لیے آسان سفر کو یقینی بنانے کے لیے ہدایات دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے، جس پر سپریم کورٹ 9 دسمبر کو سماعت کرے گا۔
دہلی کی طرف مارچ کرنے کی کوشش:
آپ کو بتا دیں کہ اتوار کو تقریباً 101 کسانوں کا ایک گروپ دہلی کے لیے روانہ ہوا تھا، لیکن ہریانہ پولیس نے انہیں روک لیا۔ اس سے پہلے 6 دسمبر کو بھی دہلی کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن تب بھی پولیس نے انہیں روک دیا تھا۔